صدر احمدی نژاد نےا لجزیرہ ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے اقوام متحدہ میں امریکہ کےسابق سفیرجان بولٹن کےاس بیان کی طرف اشارہ کیا جس میں انھوں نےاسرائیل کوکھل کر ایران کےایٹمی بجلی گھر پر حملہ کرنے کے لئے اکسایا تھا اور کہا کہ جان بولٹن کمپیوٹرگیمز کےشیدائی ہیں جوصرف بیٹھ کر اپنے ذہن میں جنگ کا کھیل کھیلتے رہتے ہيں۔اسلامی جمہوریہ ایران کےصدرنےکہاکہ بولٹن کےبیانات ہرگر قابل اعتبار نہيں ہیں جبکہ ایران امریکہ کے موقف کا جائزہ لینے کے لئے صرف اس ملک کے عقلا کی باتوں پر توجہ دیتاہے نہ کہ ان لوگوں پرجو بغض اور عداوت کی بنیاد پر بیان دیتے ہیں۔صدر احمدی نژاد نے بوشہر ایٹمی بجلی گھر میں ایندھن کی سپلائی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران کو بوشہر ایٹمی بجلی گھر جیسے بیس ایٹمی بجلی گھر تعمیر کرنے کی ضرورت ہے۔صدر احمدی نژاد نے کہا کہ تہران خود ایٹمی ایندھن تیار کرنے کی کوشش کررہا ہے کیونکہ اس ایندھن کو باہر سے حاصل کرنے میں سیاسی مسائل پیدا ہوتے ہيں۔اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر نے مزید کہا کہ واضح طور پر یہ کہنا چاہئے کہ ایران، امریکہ اور یورپ پر بھروسہ نہيں کرتا لیکن روس کے ساتھ تعلقات کو اچھا اور بہتر پوزیشن میں سمجھتا ہے۔
.............
/110